گل پلازہ سانحے کے بعد تابش ہاشمی کا اہم بیان

پاکستان کے معروف میزبان تابش ہاشمی نے کراچی میں پیش آنے والے سانحے گل پلازہ پر گہرا دکھ اور غصہ ظاہر کیا ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ شہری مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے، اور ساتھ ہی تابش ہاشمی نے کراچی کو پرائیوٹائز کرنے کی تجویز دی تاکہ شہر کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔
تابش ہاشمی نے کہا کہ کراچی کے تقریباً ہر گھر میں گل پلازہ سے جڑی کوئی یادگار موجود ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی اور اب پکی عمر تک، شہر کی قدیم ایسوسی ایشنز اور رواج ایک ایک کرکے ختم ہو رہے ہیں، جو کراچی کی ثقافت اور تاریخی شناخت کے لیے تشویشناک ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف کہنا کافی نہیں، عمل بھی ہونا چاہیے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ماضی میں پیش آنے والے حادثات کے بعد کسی نے ذمہ داری قبول کی یا کوئی حقیقی کارروائی ہوئی؟ کراچی میں پہلے بھی کئی آگیں لگ چکی ہیں اور کئی بچوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: مریم اورنگزیب کی حیران کن ٹرانسفارمیشن کی تعریف
تابش ہاشمی نے مزید کہا کہ متاثرہ افراد کو جو ہرجانے دیے جاتے ہیں وہ بھی حکومتی اہلکار اپنی جیب سے نہیں دیتے، اور عہدے دار کسی تنخواہ کی کمی یا عہدے سے ہٹنے کا سامنا نہیں کرتے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ شہر کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔
اختتام میں تابش ہاشمی نے کہا کہ اگر واقعی بہتری لانی ہے تو تابش ہاشمی نے کراچی کو پرائیوٹائز کرنے کی تجویز دی ہے، اور تمام شہری، چاہے وہ پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر یا پنجابی ہوں، مل کر شہر کو خرید کر بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری مل کر کراچی کو بہترین شہر بنا سکتے ہیں۔











